کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 80 of 95

کلمۃ الفصل — Page 80

نمبر ام ریویا کنید میجر ۱۶۹ جس سے ظاہر ہے کہ مسیح کے ماننے والوں (خواہ حقیقی طور پر پیرو ہوں یا برائے نام) کا جب کبھی منکر ان بیچ سے مقابلہ ہوا۔تو مستعان مسح ان منکران مسیح پر غالب رہے۔ملا کی حقیقت عیسائی مسیح کے پیرو نہیں بلکہ صرف اسمی طور پر اسکی طرف منسوب ہیں اگر پیشگوئی کا تعلق میر حالا نکرد حقیقی متبعین سے ہوتا تو عیسائیوں کا غلبہ ہر گز نہ ہوتا۔پس برائے نام پیروں کا خلیفہ ثبوت ہے اس بات کا کہ پیشگوئی کا تعلق اسم سے ہوتا ہے اسلئے جب تک موجودہ مدعیان اسلام می طور سے مسلمان کہلاتے ہیں اور عیسائیوں اور یہودیوں میں مل نہیں جاتے اسوقت تک اگر وہ کہ مدینہ پر قابض رہیں تو پیشگوئی کے صدق پر کوئی نقص لازم نہیں آتا۔پھر ہم کہتے ہیں کہ یہ اعتراض تو غیر احمدیوں کی طرف سے ہو سکتا ہے خلافت کے منکرین کی طرف سے نہیں ہوسکا کیونکہ خلافت کے منکرین کے لیئے تو اتنا سوچنا ہی کافی ہے کہ مکہ مدینہ کے علما کی طرف سے بھی مسیح موعود پر کفر کا فتوی لگ چکا ہے پس وہ تو تکفیر کی وجہ سے کا فربن چکے ہیں اور تکفیر کا مسئلہ منکری خلافت کے نزدیک بھی مسلم ہے۔فتد تروا گیارھواں اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اچھا اگر حضرت مسیح موعود واقعی اپنے منگروں کو کافر سمجھتے تھے تو کیوں آپ نے ان سے وہ سلوک روا رکھا جو کافروں سے جائز نہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا اعتراض کرنا معترض کی نا واقفیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائیز رکھا ہے جو نبی کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا انکے جنازے پڑھنے سے روکا گیا اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم انکے ساتھ ملکر کر سکتے ہیں۔دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی۔دینی تعلق کا ہے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہوتا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و باطر ہے سوید دوں ہمارے لیے حرام قرار دے گئے۔اگر کہوکہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں انصاری کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔اور اگر یہ کہو کہ خیر احمدیوں کی سلام