کلمۃ الفصل — Page 81
کا لفصل جلد ؟ کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم نے یود تک کو سلام کا جواب دیا ہے ہاں اشد مخالفین کو حضرت مسیح موعود نے کبھی سلام نہیں کہا اور نہ انکو سلام کہنا جائز ہے غرض ہر ایک طریقہ سے ہم کو حضرت مسیح موعود نے غیروں سے انگ کیا ہے اور ایپ کوئی تعلق نہیں جو اسلام نے مسلمانوں کے ساتھ خاص کیا ہو اور پھر ہم کو اس سے نہ روکا گیا ہو۔انجکہ یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ بات ہے تو کیوں ؟ ایسی ا محمدی عورت کا نکاح فسخ نہیں قرار دیا جاتا جس کا خانہ ند غیر احمدی ہے یا کیوں ایک احمدی باپ کا ور نہ غیر احمدی بیٹے کو جاتا ہے حالانکہ مسلمان کا کا فروارث نہیں ہو سکتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت کے احکام دو قسم کے ہیں ایک وہ جو ہر ایک انسان کے لیے ہیں اور ایک وہ جو صرف حکومت کے لیے ہیں مثلاً نماز پڑھنا ہر ایک کا فرض ہے لیکن چور کے ہاتھ کاٹنا ہر ایک کا فرض نہیں بلکہ حکومت کا فرض ہے اسی طرح روزہ رکھنا ہر ایک مسلمان کے لیے فرض ہے مگر زانی کو سنگسار کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض نہیں بلکہ صرف اسلامی حکومت کا فرض ہے اب گر اس مہل کے ماتحت غیر احمدیوں اور احمدیوں کے تعلقات پر نظر ڈالی جاوے تو سارے جھگڑے کا فیصلہ ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ چونکہ نماز الگ کرنے کا مسئلہ حکومت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اس لیئے اسپر مل در آمد کاحکم دیا گیا یہی حال جنازوں اور رشتے اور ناطوں کا ہے لیکن وراثت اور نکاح فسخ ہو جانے کا مسئلہ حکومت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لیے حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق کچھ نہیں لکھا اگر آپ کو حکومت دی جاتی تو آپ انکے متعلق بھی حکم جاری فرماتے پس مسئلہ وراثت کے متعلق نہم پر کوئی اعتراض نہیں ہاں اگر کوئی ایسا مسئلہ ہے ہر حکومت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اور پھر حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق فیصہ نہیں دیما یا تو اسکو پیش کیا جاوے ورنہ یہ کہنا کہ غیر احمدیوں کے ساتھ بعض اسلامی سلوک جائز رکھے گئے ہیں ایک دعوی ہے جسکی کوئی بھی دلیل نہیں۔فقد بروا بارھواں اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے جو عبد الکی کو خط لکھا ہے اس میں آپنے لکھا ہے کہ خدا تعالٰی نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ جسکو تیری دعوت پہنچی ہے اور ؟ اس نے تھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اس سے پتہ لگتا ہے کہ کم از کم وہ لوگ کافر