کلمۃ الفصل — Page 79
IYA کا لفضل جلد نے اس خطہ میں یہ بھی کہا کہ اگر میں اس خیال میں غلطی پر ہوں تو میں التجا کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود مجھے میری غلطی سے مطلع فرما دیں مگر حضرت صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ جب مولوی صاحب آپ کو جمود کی نماز کے بعد ملنے کے لیے تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا کہ یہ بالکل میرا نہ ہے جو آپ نے بیان کیا ، اور فرمایا کہ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارف الہیہ کے بیان میں بلند چٹان پر قائم ہو گئے ہیں۔(دیکھو الحکم نمبر ۳ جلد ہ منشاء ) دسواں اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ نی کریم نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ مکہ و مدینہ ہمیشہ مسلمانوں کے قبضے میں رہیں گے۔اس سے پتہ لگا کہ اب بھی لگنے کے قابض مسلمان ہی ہیں۔جو ابا عرض ہے کہ اول تو اس پیشگوئی کے لتھا نا کھاؤ جس یہ مطلب نکلتا ہے اگر کوئی ایسی پیشگوئی ہی نہیں تو اعتراض کیا پھر اگر کوئی ایسی پیشگوئی بفرض محال نکل بھی آئے تو بھی ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ مکہ معظمہ کی تو تی ایک نعمت الہی ہے اور ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ جب کفار سے مقابل موان تو مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں وہ توتی حاصل ہوئی۔اور قرآن مجید میں ہے ذلك بان الله لميك مغير ا نعمة انعمها على قوم حتى يغيروا ما بانفسهم والله تعالی اس نعمت کو جو اس کی قوم پر انعام فرمائی نہیں بدلاتا جب تک وہ اپنی اندرونی حالتوں کو تبدیل نہ کریں) پس جب مسلمانوں نے مسیح کا انکار کر کے اپنی حالت کو بدلنا شروع کیا تو خدا بھی ان سے ملک پر ملک چھینا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت مہلت دیتا ہے تاکہ لوگ اصلاح ر سکیں۔اور وہ جو سعید روحیں ہیں وہ دین الحق میں داخل ہو لیں چنانچہ فرماتا ہے لو تنزیلوا لمدينة الذين كفروا منهم عذابا اليما ( سورة فتح ) پس جب خدا کو ناراض رنے والی قوم کا پیمانہ لبر نے ہوجائیگا تو اللّہ تعالی جس قوم کو ان کا وارث قرار دیا وہ پیچھے مسلمان ہونگے۔قیصر و کسری کے خزانے اور بیت المقدس کی چابیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقدر تھیں مگر حضرت عمر کے زمانے میں جاکر یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔علاوہ اس کے یہ بھی تو خون کرنا چاہیے کہ ایسی پیشگوئی جوکسی قوم کے حق میں ہو اسکا تعلق صرف اس قوم کی ذات یعنی اسم کے ساتھ ہوتا ہے مثلاً قرآن مجید میں آیا ہے یا عینی انى متوفيك ورافعك الى مظهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة