کلید دعوت

by Other Authors

Page 110 of 211

کلید دعوت — Page 110

نہیں۔بلکہ ان کے ساتھ اچھا سلوک ہوتا ہے۔انہیں ہرقہ کی سہولتیں ملتی ہیں اور دولت دی جاتی ہے اور ان کی ہر ضرورت زندگی کو مد نظر رکھ کر پورا کیا جاتا ہے۔مگر حضرت بانی جماعت احمدیہ اور آپ کی جماعت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا بلکہ دشمنوں والا سلوک کیا گیا ہے۔احمدیت خدا تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے" حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں:- "دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔یہ ان لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔اے لوگو تم یقیناً سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو آخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کیلئے دعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ مشکل ہو جائیں تب بھی خدا ہرگز تمہاری دعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرے۔پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو - کازیوں کے منہ اور ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور خدا کسی اور کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا۔اسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا۔خدا کے مامورین کے آنے کیلئے بھی ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے کے لئے بھی ایک موسم۔پس یقینا سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا۔خدا سے مت لڑو یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کردو"۔(تحفہ گولڑویہ صفحه ۱۲- ۱۳) اعتراض : حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی (علیہ السلام) نے لکھا ہے آنحضرت ا عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ اس میں سور کی چربی پڑتی ہے اس تحریر سے مرزا صاحب نے آنحضور کی ہتک کی ہے۔جواب: اول یہ کہ یہ محض بدظنی ہے اور قرآن کریم ہمیں اس سے روکتا ہے۔جیسا کہ فرمایا "یا ايها الذين امنوا اجتنبوا كثيرا من الظن ان بعض الظن اثم " (سورة الحجرات : ۱۳) یعنی اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچتے رہا کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہیں۔دوسرے یہ کہ اس مذکورہ بالا عبارت میں اور اس کے سیاق و سباق میں شک کا مضمون چل رہا ہے اور