کلید دعوت

by Other Authors

Page 111 of 211

کلید دعوت — Page 111

شک کبھی بھی یقین کے مقابل پر کام نہیں دے سکے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔" ان الظن لا يغنى من الحق شيئا" (سورة النجم : ۲۹) یعنی وہم حق کے مقابل میں کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا۔مفتی عزیز الرحمان دیو بندی سے دریافت کیا گیا کہ کسی کھیت کا اگر کچھ حصہ خنزیر وغیرہ کھا جائے تو باقی کا کھانا کیسا ہے ؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ”کھانا اس کا جائز ہے لعدم الیقین و عموم البلوى" (فتاوی دار العلوم دیوبند جلد اول صفحه ۲۱۰) مراد یہ کہ شک کی بناء پر فصل کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔پس قرآن کریم ہمیں زیادہ شکوک و شبهات میں پڑنے سے منع فرماتا ہے۔اس وضاحت کے بعد اب مرزا صاحب کی اصل تحریر درج کی جاتی ہے۔آپ نے منشی محمد حسین صاحب کلرک دفتر سرکاری وکیل لاہور کے خط کے جواب میں لکھا:- " آپ اپنے گھر میں سمجھا دیں کہ اس طرح شک و شبہ میں پڑنا بہت منع ہے۔شیطان کا کام ہے۔جو ایسے وسوسے ڈالتا ہے۔ہرگز وسوسہ میں نہیں پڑنا چاہئے۔گناہ ہے اور یاد رہے کہ شک کے ساتھ غسل واجب نہیں ہوتا۔اور نہ صرف ٹک سے کوئی چیز پلید ہو سکتی ہے۔ایسی حالت میں بے شک نماز پڑھنا چاہئے اور میں انشاء اللہ دعا بھی کروں گا۔آنحضرت ا اور آپ کے اصحاب دھیوں کی طرح ہر وقت کپڑہ صاف نہیں کرتے تھے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اگر کپڑہ پر منی کرتی تھی تو ہم اس منی خشک شدہ کو صرف جھاڑ دیتے تھے۔کپڑہ نہیں دھوتے تھے۔ایسے کنواں کے پانی پیتے تھے جس میں حیض کے لئے پڑتے تھے۔ظاہری پاکیزگی کی معمولی حالت ہے کفایت کرتے تھے۔عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے۔حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔اصول یہ تھا کہ جب تک یقین نہ ہو ہر ایک چیز پاک ہے۔محض شک سے کوئی چیز پلید نہیں ہوتی۔اگر کوئی شیر خوار بچہ کسی کپڑے پر پیشاب کردے تو اس کپڑے کو دھوتے نہیں تھے محض پانی کا ایک چھینٹا اس پر ڈال دیتے تھے اور بار بار آنحضرت ا فرمایا کرتے تھے کہ روح کی صفائی کرو۔صرف جسم کی صفائی اور کپڑے کی صفائی بہشت میں داخل نہیں کرے گی اور فرمایا کرتے تھے کہ کپڑوں کے پاک کرنے میں وہم سے بہت مبالغہ کرنا اور وضوع پر بہت پانی خرچ کرنا اور شک کو یقین کی طرح سمجھ لینا یہ سب شیطانی کام ہیں اور سخت گناہ ہیں۔صحابہ رضی اللہ عنم کسی مرض کے وقت میں اونٹ کا پیشاب بھی پی لیتے تھے۔" افضل۔۲۲ فروری ۱۹۲۴ء صفحه ۹ نمبر ۴۴ جلد نمبر ۱۱ حضرت مرزا صاحب کی اس تحریر سے اول :- خود بخود مذکورہ بالا التزام کی تردید ہو جاتی ہے کیونکہ کہیں بھی یہ نہیں لکھا گیا کہ باوجود صحیح اور یقینی طور پر معلوم ہونے کے حضور ا نے وہ بغیر استعمال فرمایا۔بلکہ یہ تحریر فرمایا کہ پنیر کے متعلق صرف مشہور تھا۔دوم :- قرآن کریم اہل کتاب کے کھانے حلال قرار دیتا ہے۔سوائے اس کے کہ قطعی طور پر ان