کلام محمود — Page 228
١٩٣ جو کچھ بھی دیکھتے ہو فقط اُس کا ٹور ہے ورنہ جمال ذات تو کوسوں ہی دُور ہے ہے ہر گھڑی کرامت و هر لحد معجزه یہ میری زندگی ہے کہ حق کا ظہور ہے دیکھا نہ تو نے ایہہ خانہ میں بھی جمال تیری تو عقل میں کوئی آیا فستور ہے مُردہ دلوں کے واسطے ہر لفظ ہے حیات میری صدا نہیں یہ فرشتوں کا سور ہے زندگی میں دخل نہ کچھ موت پر ہے زور تو چیز کیا ہے ایک سر پر غرور ہے ده نوشت رو کہ جس سے چڑیلیں بھی خوف کھائیں اس کو بھی دیکھئے کہ تمنائے ٹور ہے (جولائی ۱۹۴۷ سندھ) اخبار الفضل جلد ۵ - ۱۱ر نومبر ۹۵اہ لاہور پاکستان۔