کلام محمود — Page 229
E ۲۲۹ ۱۶۴ اس کی رضائی میرے قلب حزیں کو چھٹے فورد فلماں کی خبر خُلد بریں سے پوچھئے استجابت کے مزے عرش بریں سے پوچھئے سجدہ کی کیفیتیں میری جبیں سے پوچھئے نسوز وصل خُدا ہے بس میری دکان پر بھر جگہ پر دیکھ لیجے گا کہیں سے پوچھئے کوچه دلبر کے رستہ سے ہے دنیا بے خبر پوچھنا ہو آپ نے گر تو ہمیں سے پوچھئے آسمانی بادشاہت کی خبر احمد کو ہے کس کی ملکیت سے کام یہ گیس سے پوچھئے ابتدائے عشق سے دل کھو چکا ہے عقل و ہوش بستر گفت اُس نگاہ شرمگیں سے پوچھئے دوسروں کی خوبیاں اس کی نظر میں عیب میں تجھہ کو اپنی بھی خبر ہے ؟ نکتہ میں سے پو چھٹے آسماں کی راز ہوئی عقل سے ممکن نہیں راز خانہ پوچھنا ہو تو مکیں سے پوچھئے فقر نے بخشا ہے لاکھوں کو شہنشاہی کا تاج کیا ہوا ہے سحر یہ نان جویں سے پوچھئے کس قدر تو بائیں توڑی میں یہ ہے دل کو خبر کس قدر پونچھے میں آنسو آئیں سے پوچھئے کس قدر صدمے اُٹھائے ہیں ہمارے واسطے قلب پاک رحمۃ لِلعالمین سے پوچھئے الفضل جلده - ۱۲۴ نومبر اہ لاہور - پاکستان۔(اکتوبر را ۹۵ امیہ لاہور )