کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 302

کلام محمود — Page 188

JAA۔شاخ کوبی پہ آشیانہ بنا تا ابد جو رہے فسانہ بنا عرش بھی جس سے مُرتعش ہو جائے سوزش دل سے دُہ ترانہ بنا فلسفی ! زندگی سے کیا پایا؟ حیف ہے گر تیرا خدا نہ بنا لذت وصل ہی میں سب کچھ ہے اس سے ملنے کا کچھ بہانہ بنا چھوڑنا ہے جو نقش عالم پر ! کسی کمر عزم مقبلا نہ بنا وہ تو بے پردہ ہو گئے تھے مگر حیف یہ دل ہی آئینہ نہ بنا دل کو لے کر میں کیا کروں پیارے تو اگر میرا دلربا نہ بنا خاک کر دے ملا دے مٹی میں پر میرے دل کو بے وفا نہ بنا گر کے قدموں پہ ہو گیا ئیں ڈھیر وقت پر خوب ہی بہانہ بنا چال عشاق کی چپلوں میں بھی تو بھی انداز دلبرانہ بنا نعمت وصل بے سوال ہی دے اپنے عاشق کو بے حیا نہ بنا جو بھی دینا ہے آپ ہی دیدے مجھ کو اغیار کا گدا نہ بنا تجھ سے مل کر نہ غیر کو دیکھوں غیر کا مجھے کا مبتلا نہ بنا اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۲۲ را پر میل نشده