کلام محمود — Page 187
AL مَن تُحجلُ الوَردَ الطَّرِي يكونِهِ عَيْنَايَ دَامِيَتَانِ أَو خَدَات اپنے شریع رنگ سے تر و تازہ بل گلاب کو کون شر ما رہا ہے میری دونوں خو نبار کیس یا تیرے مرغ رضار منك التكون وكُلّ رَوْحِ وَرَوَاحَةٍ مَنْ ذَا الَّذِي لَا يَبْتَغِي لقياك سکون اور ہر قسم کا آرام و راحت تبھی سے (تا) ہے (تو پھر) وہ کون ہے جو تیرے دیدار کا طالب نہ ہو يَا مَنْ تَخَافُ عَدُوكَ مُتَزَحْزِهَا عِندَ المَلِيكِ المُقْتَدِرِ مَثْوَان سے وہ شخص جو دشمن سے گھبراتا اور ڈرتا ہے تجھے ڈرنے کی کیا وجہ ہے تو خُدائے ملیک مقتدر کے پاس بھید ہے عَطِشَتْ قُلُوبُ العَاشِقِيْنَ يَرَاحِكَ فَادِرُ كُوسَكَ وَاسْقِ مِنْ سُفْيَاكَ عاشقوں کے دل تیری شہر کے لیے تڑپ رہے ہیں ہیں تو نکی جس میں نے پیالوں کا دور چلا اور شراب محبت کی تقسیم سے انکو بھی بست وی