کلام محمود — Page 189
149 جس کے نیچے ہوں سب مجمع مشاق اپنی رحمت کا شامیانہ بنا بخشش حق نے پالیا مجھ کو کیا ہوا میں اگر بھلا نہ بنا مجھ سے لاکھوں میں تیسری دنیا میں تجھ سا پر کوئی دوسرا نہ بنا تیری صنعت پر حرف آتا ہے توڑ دے پر مجھے بُرا نہ بنا دل و دلبر میں چھیڑ جاری ہے ہے یہ اک طرفہ شاخسانہ بنا دیکھ کر آدمی میں دانہ کی حرص آج ابلیس خود ہے دانہ بنا