کلام محمود — Page 111
训 ہم کو اک گھونٹ ہی دے مصدقہ میں مینا کے پی گئے لوگ نئے اس کے پیارے پیارے گرنه دیدار میسر ہو نہ گفتار نیب کو چہ عشق میں جا کر کوئی کیا ہے پیارے فضل سے تیرے جماعت تو ہوئی ہے تیار جزب شیطان کہیں رخنہ نہ ڈالے پیارے قوم کے دل پر کوئی بات نہیں کرتی اثر تو ہی کھولے گا تو کھولے گا یہ تالے پیارے پردہ غیب سے امداد کے ساماں کردے سب کے سب بوجہ میرے آپ اُٹھالے پیارے نام کی طرح مرے کام بھی کر دے محمود مجھ کو ہر قسم کے میلبوں سے بچالے پیارے