کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 302

کلام محمود — Page 112

۱۱۲ ۶۴ کیوں غلامی کروں شیطاں کی خُدا کا ہوکر اپنے ہاتھوں سے بڑا کیوں بنوں اچھا ہو کر مدعا تو ہے رہی جو رہے پورا ہو کر انتجا ہے وہی جو ٹوٹے پذیرا ہو کر درد سے ذکر ہوا پیدا ہواذکر سے جذب میری بیماری لگی مجھ کو مسیحا ہو کر رہ گیا سایہ سے محروم ہوا بے برکت سرد نے کیا لیا احباب سے اُونچا ہو کر جب نظر میری پڑی ماضی پر دل خون ہوا جان بھی تن سے میری نکلی پسینہ ہو کر چاہیئے کوئی تو تقریب تر خم کے لیے میں نے کیا لینا ہے اے دوستو اچھا ہو کر نہ ملے تو بھی دھٹرکتا ہے میں تو بھی اے دل تجھ کو کیا بیٹھنا آتا نہیں بنتا ہو کر حسن ظاہر یہ نہ تو بول که سوحسرت د غم پھوڑ جائے گا ہیں آخر یہ تماشا ہو کر اس کی ہر جنبش لب کرتی ہے مُردے زندہ حشر دکھلائے گا اب کیا ہمیں برپا ہو کر دل کو گھیرا نہ سکے لشکر افکار و هموم بارک اللہ ! لڑا خوب ہی تنہا ہو کر ہائے وہ شخص کہ جو کام بھی کرنا چاہے دل میں رہ جائے دہی اس کے تمنا ہو کر ایسے بیمار کا پھر اور ٹھکانا معلوم دے سکے تم نہ شفا جس کو میٹھا ہو کر انہ دہ غنی ہے یہ نہیں اس کو یہ ہرگز بھی پسند غیر سے تیرا تعلق رہے اُس کا ہو کر اخبار الفضل جلد ۱۱- ۴ / جنوری ۲۳