کلام محمود — Page 110
۶۳ - پردہ زلف دو تاریخ سے بہالے پیارے ہجر کی موت سے نہ بچائے پیارے چا در فضل رعایت میں چھپالے پیارے مجھے گنہ گار کو اپنا ہی بنا ہے پیارے نفس کی قید میں ہوں مجھ کو چھڑالے پیارے غرق ہوں بھر معاصی میں بچاے پیارے تو کے اور نہ مانے میرا دل ناممکن کس کی طاقت ہے ترے حکم کوٹالے پیارے جلد آجلد کہ ہوں لشکر امداد میں گھرا پڑتے ہیں مجھے اب جان کے لالے پیارے فضل کو فضل کہ میں یکہ و تنہا جاں ہوں میں مقابل پر حوادث کے رسالے پیارے رہ چکے پاؤں ، نہیں جسم میں باقی طاقت رحم کر گود میں اب مجھ کو اُٹھائے پیارے غیر کو سونپ نہ دیجو کہ کوئی مادرم در کر گیا تھا میں تیرے ہی حوالے پیارے دشت و کو ہسار میں جب آئے نظر جلوہ چھن تیرے دیوانے کو پھر کون سنبھالے پیارے کیوں کروں فرق یونسی دونوں مجھے کیساں ہیں سب تیرے بند ہیں گویے ہوں کہ کالے پیارے ہو کے کنگال جو عاشق ہو رخ سُلطاں پر حوصلے دل کے وہ پھر کیسے نکالے پیارے مجھ سے بڑھ کے میری حالت کو یہ کرتے ہیں بیاں منہ سے گو چپ میں میرے پاؤں کے چھالے پیارے ظاہری دُکھ ہو تو لاکھوں میں بندائی موجود دل کے کانٹوں کو مگر کون نکالے پیارے اختبار الفضل جلد ۱۰- د جنوری ساده