کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 302

کلام محمود — Page 106

۵۹ حقیقی عشق گر ہوتا تو سختی بستر ہوتی تلاش یار ہر ہر وہ میں ہوتی کو بگھو ہوتی سے وصل حبیب لا یزال ولم یزل ہوتی تو دل کیا میری جاں بھی بڑھ کے قربان سیلو ہو تی جو تم سے کوئی خواہش تھی تو بس آنی ہی خواہش تھی تمھارا رنگ چڑھ جاتا تمہاری مجھ میں جو ہوتی دا تجھ سے بری شہرت نہیں برعکس ہے قصہ تیری ہستی تو مجھ سے ہے نہ میں ہوتا نہ تو ہوتی جہاں جاتا ہوں اُن کا خیال مجھ کو ڈھونڈ لیتا ہے نہ ہو تا پیار گر مجھ سے تو کیا یوں جستجو ہوتی نہ رہتی آرزو دل میں کوئی جز دید جاناناں کبھی پوری اعلیٰ یہ ہماری آرزو ہوتی اگر تم دامن رحمت میں اپنے مجھ کو لے لیتے تمہارا کچھ نہ جاتا لیک میری آبرو ہوتی نہ بنتے تم جو بیگا نے تو پھر پردہ ہی کیوں ہوا یہ یاد آکر خود بخود ہی رُو بُرد ہوتی در نے خانہ اُلفت اگر میں وا کبھی پاتا تو بس کرتا نہ گھونٹوں پر صراحی ہی سٹو ہوتی مری جنت تو یہ تھی میں ترے سایہ کیلئے بہت رواں دل میں سے عرفان بے پایاں کی خبر ہوتی تسلی پاگیا تو کس طرح ؟ تب ملف تھا سالک کہ آنکھیں چار ہوئیں اور باہم گفتگو ہوتی ہوئی ہے پارہ پارہ چادر تقومی مسلماں کی تیرے ہاتھوں سے ہوسکتی تھی مولی گر رٹو ہوتی اخبار الفضل جلد ۹ - ۵ر جنوری ساله