کلام محمود — Page 105
1+0 طور پر جلوہ گناں ہے کہ ذرا دیکھو تو محسن کا باب کھلا ہے بخدا دیکھو تو رعب من شبہ خوباں کو ذرا دیکھو تو ہاتھ باندھے ہیں کھڑے شاہ دگنا دیکھو تو اپنے بیگانوں نے جب چھوڑ دیا ساتھ میرا وہ میرے ساتھ رہا اس کی وفا دیکھو تو ماخلو! عقل پر اپنی نہ ابھی نازاں ہو پہلے تم ده نگیہ ہوش ربا دیکھو تو غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے اے میرے فلسفیو ! زور دیا دیکھو تو ہیں تو معشوق مگر ناز اُٹھاتے ہیں میرے مجمع ہیں ایک ہی باحسن ورفا دیکھو تو عاشقو! دیکھ چکے عشق مجازی کے کمال آب مرے یار سے بھی دل کو لگا دیکھو تو ہے کبھی رویت دلدار بھی وصل حبیب کیسی مشاق کی ہے شبح و مسا دیکھو تو چاروں اطراف میں مینوں ہی نظر آتے ہیں نہ ہوا ہو کہ کہیں جلوہ نما دیکھو تو ہے کہیں جنگ کہیں زلزلہ طاعون کہیں سے گرے کا ہے کہیں شور پڑا دیکھو تو شور کسی نے اپنے رخ زیبا پر سے الٹی بے نقاب جس سے عالم میں ہے یہ حشر بپا دیکھو تو عالم حلوہ یار ہے کچھ کھیل نہیں ہے لوگو ! احمدیت کا بھلا نقش منا دیکھو تو لوگو کیا ہوا تم سے جو ناراض ہے دنیا محمود کس قدر تم پر ہیں الطاف خُدا دیکھو تو اخبار الفضل جلد ۲۰۹ جنوری ۱۹۲۲ انفلونزا