کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 302

کلام محمود — Page 107

1۔6 ٹنگ بھی رشک ہیں کے لئے وہ خوش نصیب ہوں میں وہ آپ مجھ سے ہے کہتا نہ ڈر قریب ہوں میں غضب ہے شاہ بلائے اسلام منہ موڑے ستم ہے چپ رہے یہ، وہ کسے طبیب ہوں میں دہ بوجھ اٹھا نہ سکے میں کو آسمان و زمیں اُسے اُٹھانے کو آیا ہوں کیا عجیب ہوں میں مقابلہ پر مدد کے بہ گالیاں دُوں گا کہ وہ تو ہے وہی جو کچھ کہ ہے نجیب ہوں میں ہے گالیوں کے سوا اس کے پاس کیا رکھا غریب کیا کرے مخفی ہے وہ شعیب ہوں میں کرے گا فاصلہ کیا جب کہ دل اکھٹے ہوں ہزار دور ہوں اس سے پھر قریب ہوں میں ہے عقل نفس سے کہتی کہ ہوش کرنا واں مرا رقیب ہے تو اور تری رقیب ہوں میں کر اپنے فضل سے تو میرے ہم سفر پیدا کہ اس دیار میں اسے جان من غریب ہوں میں ہرے پکڑنے پہ قدرت کہاں تجھے میاد کہ باغ حسن محمد کی عندلیب ہوں میں نہ سلطنت کی تمنا نہ خواہش اکرام میں ہے کافی کہ مولیٰ کا اک نقیب ہوں میں میری طرف چلے آئیں مریض رُوحانی ر کہ ان کے دردوں دُکھوں کے لیے طبیب ہوں میں اخبار الفضل مبله ۱۰- ۲ اکتوبر ۲۲ له