کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 302

کلام محمود — Page 49

۴۹ قصہ ہجر ذرا ہوش میں آئوں تو کہوں بات لمبی ہے۔یہ سر پیر جو پائوں تو کہوں عشق میں اک گل نازک کئے ہوا ہوں مجنوں دھجیاں جامہ تن کی میں اڑائوں تو کہوں حال دل کہنے نہیں دیتی یہ بے تابی دل آرمینہ سے تمھیں اپنے لگائوں تو کہوں حال یوں ان سے کہوں میں سےوہ بخود ہو جائیں کوئی چھیتی ہوئی میں بات بنائوں تو کہوں شرم آتی ہے یہ کہتے کہ نہیں ہلتا تو تیری تصویر کو میں دل سے مٹائوں تو کہوں دہ مزا ہے غم دبر میں کہ میں کہتا ہوں رنج فرقت کوئی دن اور اُٹھائوں تو کہوں راز داں اس کی شکایت ہو اسی کے آگے اس کی تصویر کو آنکھوں سے ہٹائوں تو کہوں سخت ڈرتا ہوں میں اظہار محبت کرتے پہلے اس شوخ سے میں عہد وفائوں تو نوں دہ خفا ہیں کہ بلا پوچھے چلا آیا کیوں یاں یہ ہے فکر کوئی بات بنائوں تو کہوں تیرے یوسف کا مجھے خوب پیر ہے اے دل کوئی دن اور کنوئیں تجھ کو ٹھنکالوں تو کہوں دل نہیں ہے یہ تو اصل دین افعی ہے دل کو اس زُلف میں سے جو چھڑائوں تو کہوں چہرہ دکھلائے مجھے صدقے ہیں ان آنکھوں کے دامن ان کا کبھی آنکھوں سے لگائوں تو کہوں جان جائے گی یہ چھوٹے گا نہ دامن تیرا پتے لمبی کے میں دو چار چھائوں تو کہوں یا الٹی تیری اُلفت میں ہوا ہوں مجنوں خواب میں ہی کبھی میں تجھ کو جو پائوں توکٹوں اخبار بدر جلد ۸ - ۱ار مارچ شاه