کلام محمود — Page 50
۵۰ ۲۷ دہ چہرہ ہر روز ہیں دکھاتے رقیب کو تو چھیا چھیا کر دہ ہم ہی آفت زدہ ہیں جن سے چھپاتے ہیں منہ دکھا دکھا کر ہے مارا اک کو ڈ لاڈلا کر تو دوسر نے کو ہنسا ہنسا کر جگر کے ٹکڑے کئے ہیں کس نےیہ دل کی حالت دکھا دکھا کر اُڑائے گا نہ ہوش میرے غزالی آنکھیں دکھا دکھا کر چھری ہے چلتی دل وجگر پر نہ کیجئے باتیں چبا چبا کر کوئی وہ دن تھا کہ پاس اپنے وہ تھے بٹھاتے بلا بلا کر نکالتے ہیں مگر وہاں سے دھتا مجھے اب بتا بتا کر فراق جاناں نے دل کو دوزخ بنا دیا ہے جلا جلا کر یہ آگ بجھتی نہیں ہے مجھ سے میں تھک گیا ہوں بجھا بجھا کر جو ہے رقیبوں سے تم کو لغت تو دل میں پوشید رکھو اس کو مجھے ہو دیوانہ کیوں بناتے بہت ابت کر جتا جتا کر اخبار بد و جلد ۸ - ۱۸ ر ما پیر