کلام محمود — Page 48
شیطاں ہے ایک عرصہ سے دنیا پی کران اُٹھو اور اُٹھ کے خاک میں اس کو نہاں کرد دکھلاؤ پھر صحابہ کا جوش و خروش تم دنیا پر اپنی قوت بازو عیاں کرد پھر آزماؤ اپنے ارادوں کی بیست گی پھر تم دلوں کی طاقتوں کا امتحال کرو دل پھر محن الفان محمد کے توڑ دو پھر دشمنان دین کو تم بے زباں کرو پھر ریزہ ریزہ کر دو ثبت شرک و کفر کو کفار و مشرکین کو پھر نیم جاں کرد پھر خاک میں ملا دو یہ سب قصر شیطنت نام و نشاں مٹا کے انہیں بے نشاں کرو کے چھوڑو جھوٹوں کو پھر انکے گھر تک ہاں پھر سمند طبع کی جولانیاں کرد ہاں پھر میلان فوج لعیں کو پچھاڑ دو میدان کارزار میں پھر گرمیاں کرد پھر تم اُٹھاؤ رنج و تعب دیں کے واسطے قربان راو دین محمد میں جاں کرو پھر اپنے ساتھ اور خلائق کو لوملا نامہربان ہو ہیں اُنہیں مہرباں کرو پھر دشمنوں کو حلقہ اُلفت میں بانڈ کو جو تم سے لڑ رہے ہیں انہیں ہم زباں کرد سینہ سے اپنے پھر اُسی مد رو کو لو لگا پھر دل میں اپنے یا و جدا میهمان کرد پھر اس پر اپنے حال زبوں کو عیاں کرو پھر اس کے آگے نالہ آہ و فغاں کرد ہاں پھر اُسی منم سے تعلق بڑھاؤ تم پھر کاروان دل کو ادھر ہی رواں کرد پھر راتیں کاٹو جاگ کے یاد حبیب میں پھر آنسووں کا آنکھ سے دریا رواں کرو پھر اس کی میٹھی بیٹی صداؤں کو تم سنو پھر اپنے دل کو دل سے تم شادماں کرد ہاں ہاں اسی صدی ہے پھر دل لگاؤ تم پھر نئمین لوگوں کے انعام پاؤ تم