کلام محمود — Page 230
140' جونہی دیکھا اُنہیں چشمہ محبت کا اُبل آیا درخت عشق میں مایوسیوں کے بعد پھیل آیا خطائیں کیں جفائیں کیں ہر اک ناکردنی کر لی کیا سب کچھ مگر پیشانی پر اُن کے نہ بل آیا ملمع ساز اس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں دُنیا میں مگر وہ عاشق صادق کے پہلو سے نکل آیا اُمیدیں روز ہی ہوتی تھیں پیدا شکل کو لے کر مگر قلب مزیں کو مسبر آج آیا نہ کل آیا نہیں بیچارگی و جبر کا دخل ان کی محفل میں جو آیا ان کی محفل میں وہ پل کے سر کے بل آیا ادر جولانی شده دوران سفر سکیسر اخبار الفضل جلد ۲۰۰۵ نومبر انه لا ہور - پاکستان -