کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 302

کلام محمود — Page 231

194 آؤ تمھیں بتائیں نجحت کے راز ہم پیٹریں تمھاری رُوح کے خوابیڈ ساز ہم میدان عشق میں ہیں رہے پیش پیش وه محمود بن گئے وہ بنے جب ایاز ہم بطحا سے نکلے وہ کبھی سینا سے آئے کہ جدت طراز وہ ہیں کہ جدت طراز ہم ایسی وفاٹے گی ہمیں اور کس جگہ آئیں گے اُن کے عشق سے ہرگز نہ باز ہم وہ آئے اور عشق کا اظہار کر دیا پڑھتے رہے اندھیرے میں چھپ کر نماز ہم عشق منم سے عشق خدا غیر چیز ہے اس رہ کے جانتے ہیں نشیب و فراز ہم اک ذرہ حقیر کی قیمت ہی کیا بھلا کرتے ہیں اُن کے لطف کے بل پر ہی تازہم گاتے ہیں جب فرشتے کوئی نغمہ جدید ہاتھوں میں تھام لیتے ہیں فوراً ہی ساز ہم اخبار الفضل مجلد ۵ - ۶ / دسمبر سنہ لاہور - پاکستان۔