کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 302

کلام محمود — Page 51

مجھے سمجھتے ہو کیا قلی تم کہ نت نئے بوجھ لادتے ہو بس اب تو بجانے دو تھک گیا ہوں غم ومصیبت اُٹھا اُٹھا کر پڑے بلا جس کے سر پہ آکر اُسے وہی خوب جانتا ہے تماشا کیا دیکھتے ہو صاحب ہمارے دل کو دکھا دکھا کر کبھی جو تعریف کیجئے تو وہ کہتے ہیں یوں بگڑہ بگڑ کر مزاج میرا بگاڑتے ہیں بنا بنا کر بنا بنا کر رہا الگ وہ ہمارا یوسف نہ اس کا دامن بھی چھو سکے ہم یونسی عبت میں گنوائیں آنکھیں ہیں اشک نو نہیں سہا سہا کر جو کوئی ہے بن بلائے آیا تو اس کو تم کیوں نکالتے ہو ہیں ایسے لاکھوں کہ بزم میں ہو اُنھیں بیٹھاتے بلا بلا کر ہیں چاندنی راتیں لاکھوں گذریں کھلی نہ دل کی کلی کبھی بھی وہ عہد جو مجھ سے کر چکا ہے کبھی تو اے بے وفا ! وفاکر جدائی ہم میں ہے کس نے ڈالی خضر تھیں اسکا کچھ پتہ ہے؟ وہ کون تھا جو کہ لے گیا دل ہے مجھ سے آنکھیں ملا بلاگر فراق جاناں میں ساتھ چھوڑا ہر ایک چھوٹے بڑے نے میرا تھی دل پہ اُمید سوا سے بھی وہ لے گیا ہے لبھا بٹھا کر ہزار کوشش کرے کوئی پر وہ مجھ سے عہدہ برآ نہ ہو گا جسے ہو کچھ زعم آزمانے ہوں کہتا ڈنکا بجا بجا کر یہ چھپ کے کیوں چٹکیاں ہے لیتا ہے بھلا کس کا ڈر پڑا ہے جو شوق ہو دل کو چھیڑنے کا تو شوق سے کر نکلا ملا کر