کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 302

کلام محمود — Page 52

۵۲ یہی ہے دن رات میری خواہش کہ کاش مل جائے وہ پری کو مٹاؤں پھر بے قراری دل گلے سے اس کو لگا لگا کر جو مارنا ہے تو تیر مژگاں سے چھید ڈالو دل وجگر کو نہ مجھ کو تڑپاؤ اب زیادہ تم آئے دن یوں سنا سنا کر حشدا پہ الزام بے وفائی یہ بات محمود پھر نہ کیئو ہوا تجھے بندہ خدا کیا ، خدا خدا کر خدا خدا کر جو کو چہ عشق کی خبر ہو تو سب کریں ایسی بے حیائی یہ اصل ظاہر جو مجھ سے کہتے ہیں کچھ تو اے بے حیا ! حیا کر