کلام محمود — Page 29
کہ جا جہاں پہ ہوتی تھی ہر روز ٹوٹ اور ہر طرح اس جگہ پہ اب امن امان ہے خفیہ ہو کوئی بات تو بتلاؤں میں تمہیں طرز حکومت ان کی ہر اک پر میان ہے ہندوستاں میں چاروں طرف ریل جاری کی ان کا ہی کام ہے یہ، یہ ان کی ہی نشان ہے چیزیں ہزاروں ڈاک میں بھیجو تم آج کل نقصان اس میں کوئی، نہ کوئی زبان ہے پھیلایا تار ملک میں آرام کے لیے یہ سلطنت ہی ہم یہ بہت مہربان ہے چھوٹوں بڑوں کی چین سے ہوتی ہر ہیں نہبر نے مال کا خطر ہے نہ نقصان جلن ہے پیٹتے ہیں ایک گھاٹ پر شیر اور گو سند اس سلطنت میں یاں تلک امن امان ہے پھر بھی کوئی نہ مانے جو احساں تو کیا کریں ایسے کو بے خرد کیں یا بے حیا کہیں ہندوستاں سے اٹھ گیا تھا علم اور سہی یاں آتا تھا نہ عالم و فاضل کوئی نظر پھیلا تھا ہر چہار طرف جہل ملک پر کوئی نہ تھا جو آئے همارا ہو چارہ گر اپنے پرائے چھوڑ کے سب ہو گئے الگ ہم بے کسوں پر آخر انہوں نے ہی کی نظر انگریزوں نے ہی بے کس و بد حال دیکھ کر کھوئے ہیں علم و فضل کے ہم پر ہزار در مذہب میں ہر طرح ہمیں آزاد کر دیا چلتا نہیں سروں پر کوئی جبر کا تیر پوجا کرے نماز پڑھے کوئی کچھ کرے آزاد کر دیا ہے اُنھوں نے ہر اک بشر القتہ سلطنت یہ بڑی مہربان ہے آتی نہیں جہان میں ایسی کوئی نظر فضل خدا سے ہم کوئی ہے یہ سلطنت جو نفع دینے والی ہے اور ہے بھی بے ضرر اور اس سے بڑھ کے رحم خدا کا یہ ہم پہ ہے مینی سیستم سا ہے دیا ہم کو راہبر محمود درد دل سے یہ ہے اب میری دُعا قیقتر کو بھی ہدایت اسلام ہو عطا