کلام محمود — Page 28
دکھلا کے ہم کو تازہ نشانات دسمجزات چہرہ خدائے عز وجل کا دکھا دیا ہم کیوں کریں منہ اس پر فدا جان و آبرو روشن کیا ہے دین کا جس نے بجھا دیا رہ دل جو بغض رکینہ سے سمجھے اور ہوا ہے دیں کا کمال اُن کو بھی اس نے دیکھا دیا اس نے ہی آئے ہم کو اُٹھایا زمین سے تھا دشمنوں نے خاک میں ہم کو بلا دیا ڈوئی تصوری۔دھلوی۔لیکھو سوتراج ساروں کو ایک وار میں اس نے گرا دیا ایسے نشاں دکھائے کہ میں کیا کہوں تمہیں کفار نے بھی اپنے سروں کو تُجھکا دیا احسان اس کے ہم پہ میں بے حد دیگراں ہوگن کے انہیں نہیں ایسی کوئی زباں برطانیہ جو تم پر حکومت ہے کہ رہا تم جانتے نہیں ہو کہ ہے بھید اس میں کیا یہ بھی اُسی کے دم سے ہے نعمت نہیں کی تائش کر جان و دل سے خدا کا کر دارا نازل ہوئے تھے ٹیسٹی مریم جہاں وہاں اس وقت جاری قیصر روما کا حکم تھا گو تھی میٹودیوں کی نہ وہ اپنی سلطنت پر اپنی سلطنت سے بھی آرام تھا سوا ویسی ہی سلطنت تھیں اللہ نے ہے دی تا اپنی قیمتوں کا نہ تم کو رھے گلہ پر جیسے اُس سیخ سے بڑھ کر ہے یہ مسیح یہ سلطنت بھی پہلی سے ہے امن میں ہوا یہ رعب اور شان بھلا اس میں تھی کہاں یہ دبدبہ تھا قیصر روما کو کب ملا ہے ایسی شان قیصر مہندوستان کی ہے دشمن اس کی خنجر براں سے کاپیتا اس سلطنت کی تم کو بتاؤں وہ خوبیاں جن سے کہ اس کی مہر و عنایات ہوں میں اس کے سبب سے ہند میں امن امان ہے نے شور و شر کیں ہے نہ آہ وفغان ہے ہندوستاں میں ایسا کیا ہے انہوں نے عدل ہر شورہ پشت جس سے ہوا نیم جان ہے