کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 302

کلام محمود — Page 30

۱۵ نہ کچھ توت رہی ہے جسم وجاں میں نہ باقی ہے اثر میری زباں میں ہے تیاری سفر کی کارواں میں میرا دل ہے ابھی خواب گراں میں نہیں پھٹتی نظر آتی میری جاں پھنسا ہوں اس طرح قید گراں میں مزا جو یار پر مرنے میں ہے وہ نہیں لذت حیاتِ جاوداں میں ہر اک عارف کے دل پر ہے وہ ظاہر خُدا مخفی نہیں ہے آسماں میں خدایا درد دل سے ہے یہ خواہش مرا تو ساتھ دے دونوں جہاں میں نظر میں کاموں کی ہے وہ کامل اُترتا ہے جو پورا امتحاں میں یہی بھی ہے کہ پہنچے یار کے پاس ہے مریغ دل تڑپتا آشیاں میں و سنتا ہے کپڑ لیتا ہے دل کو تڑپ ایسی ہے میری داستاں میں ہدائے دوست آئی کان میں کیا کہ پھر جاں آگئی اک نیم جاں میں کریں کیونکر نہ تیرا شکر یا رب کہ تو نے لے لیا ہم کو اماں میں ہر اک رنج و بلا سے ہم میں محفوظ مصیبت پڑ رہی ہے گو جہاں میں ہر اک جانور سے تیسر منور ترا ہی جلوہ ہے کون ومکاں میں کہاں ہے لالہ وگل میں وہ ملتی جو خوبی ہے میرے اس دلستاں میں ہے اک مخلوق رب ذوالینن کی بھلا طاقت ہی کیا ہے آسماں میں ندا کا رحم ہونے کو ہے محمود تغیر ہو رہا ہے آسماں میں اخبار بدر جلد ۶-۲۶ ستمبرسته