کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 302

کلام محمود — Page 284

۲۸۴ گل میں پر ان میں پہلی سی آب جو نہیں رہی موٹی تو بل ہی جاتے ہیں پڑھو نہیں رہی مغرب کا ہے بچھونا تو مغرب کا اوڑھنا اسلام کی تو کوئی بھی اب تو نہیں رہی از رساله ریویو آف ریلیجینز اردو ماہ جولائی ۱۳۳ اس زمانہ میں اماموں کی بڑی کثرت ہے مقتدی ملتے نہیں ان کی بڑی قلت ہے اس پہ یہ اور ہے آفت کہ میں باغی پیرو اور لیڈر کو جو دیکھو تو وہ کم ہمت ہے از رساله ریویو آف ریلیجنز اردو - ما و جولائی ساید یہ متابع بوش دینداری کبھی گھٹنا بھی ہے اس جہاں کی قید و بندش سے کبھی چھپنا بھی ہے کر تو کل جس قدر چاہے کہ اک نہر ہے یہ یہ بتادے باندھ رکھا اُونٹ کا گھٹنا بھی ہے ۲۰ جولائی شاہ نوشہرہ اپنا لیا عدد نے ہر ایک غیر قوم کو تقیم ہو کے رہ گئے ہو تم شعوب میں سالک تجھے نوید خوشی دینے کے لیے پھرتا ہوں شرق و غرب و شمال و جنوب میں فقی سے اس سوال کا حل ہو نہیں سکا ہیں تجھ میں ہی قلوب کہ تو ہے قلوب میں ۲۰ جولائی شاه قرض سے دور رہو قرض بڑی آفت ہے قرض لیکر جو اکڑتا ہے وہ بے غیرت ہے اپنے من پر ستم اس سے بڑا کیا ہو گا قرمن لیکر جو نہ دے سخت ہی بد فطرت ہے اختيار الصلح بعد ۳۰۰ / جنوری شاه - کراچی - پاکستان