کلام محمود — Page 12
ایسی حالت میں بھی نازل نہ ہو گر فضل خدا کفر کے جبکہ ہوں اسلام پر حملے پیہم جس طرف دیکھئے دشمن ہی نظر آتے ہیں کوئی مونس نہیں دنیا میں نہ کوئی ہمدم دین اسلام کی ہر بات کو جھٹلائیں غوی احمد پاک کے حق میں بھی کریں سب وشتم عاشیق احمد و دلدادہ مولائے کریم حسرت ویاس سے مر جائیں یہ چشم پرنم پر وہ غیور خُدا کب اسے کرتا ہے پسند دین احمد ہو تباہ اور ہو دشمن فترم اپنے وعدے کے مطابق تجھے بھیجا اس نے امت خیر رائل پر ہے کیا اُس نے کرم تیرے ہاتھوں سے ہی دنبال کی ٹوٹے گی گھر شرک کے ہاتھ تھے ہاتھ سے ہی ہو دینگے قلم دخیل کا نام ونشاں دہر سے مٹ جائے گا ظل اسلام میں آجائے گا سارا عالم جو کہ ہیں تابع شیطاں نہیں ان کی پروا ایک ہی حملے میں مٹ جائیگا سب اُنکا بھرم جبکہ وہ زلزلہ جس کا کہ ہوا ہے وعدہ ڈال دے گا تیرے اعداد کے گھروں میں اعتم تب اُنہیں ہوگی خبر اور کہیں گے بیہات ہم تو کرتے رہے ہیں اپنی ہی جانوں پر تم تیری سچائی کا دُنیا میں بجے گا ڈنکا بادشاہوں کے ترے سامنے ہونگے سر خم تیرے اعدار ہو ہیں دوزخ میں جگہ پائیں گے پر جگہ تیرے مریدوں کی تو ہے باغ ارم التجا ہے میری آخر میں یہ اے پیارے مسیح حشر کے روز تو محمود کا بنیو ہمدم