کلام محمود — Page 13
غصہ میں بھرا ہوا خدا ہے جاگو ابھی فرصت دعا ہے تم کہتے ہو امن میں ہیں ہم، اور منہ کھولے ہوئے کھڑی بلا ہے ڈرتی نہیں کچھ بھی تو خدا سے اے قوم! یہ تجھ کو کیا ہوا ہے مامورِ خدا سے دشمنی ہے کیا اس کا ہی نام اتقا ہے گمراہ ہوئے ہو باز آؤ کیا عقل تمہاری کو ہوا ہے موسی کے غلام تھے سینما ہاں اُن سے ہمارا کام کیا ہے اب بر راہِ کوئے دلبر واللہ علام مصطفے ہے کس راہ سے ابن مریم آئے مدت ہوئی وہ تو مر چکا ہے اب اور کا انتظار چھوڑو آنا تھا جسے وہ تو آچکا ہے جس کو رکیا ہے خُدا نے مامور اس سے بھلا تم کو کیا گلہ ہے کیوں بھولے ہو دوستو ادھر آؤ اک مرد خندا پکارتا ہے باز آؤ شرارتوں سے اپنی کچھ تم میں اگر بُوئے وفا ہے اخبار بدر جلد ۲۰۰۵ ستمبرست