کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 302

کلام محمود — Page 11

مٹ گیا تیری عداوت کے بس سے پیارے کوئی لیتا نہیں اب دہر میں نام آتیم بھنبھناہٹ جو انھوں نے یہ لگا رکھتی ہے چیز کیا ہیں یہ مخالف تو میں پیشہ سے بھی کم کر نہیں سکتے یہ کچھ بھی تبرا اسے شاہ جہاں ہفت خواں بھی جو یہ بن جائیں تو تو ہے رستم چرخ نیلی کی کر بھی ترے آگے ہے خم فیل کیا چیز ہیں اور کس کو ہیں کہتے میغم جس کا جی چاہے مقابل پہ ترے آدیکھے دیکھنا چاہتا ہے کوئی اگر ملک عدم حیف ہے قوم ترے فعلوں پر اور عقلوں پر دوست ہیں جو کہ تے اُن پہ تو کرتی ہے تم ہائے اُس شخص سے تو بغض و عداوت رکھے رات دن جس کو لگا رہتا ہے تیرا ہی غم نام تک اُس کا ہٹا دینے میں ہے تو کوشاں اس کا ہر بار مگر آگے ہی پڑتا ہے قدم دیکھ کر تیرے نشانات کو اسے مہدی وقت آج انگشت بدندان ہے سارا عالم مال کیا چیز ہے اور جاں کی حقیقت کیا ہے آبرو تجھ پر بند کرنے کو تیار ہیں ہم فرق میں بحر معاصی میں ہم اے پیارے میسج پار ہو جائیں اگر تو کرے کچھ ہم پر کرم آج دنیا میں ہر اک مو بے شرارت پھیلی پھنس گئی پنجہ شیطاں میں ہے نسل آدم اب ہنسی کرتے ہیں احکام الہی سرلوگ نہ تو اللہ ہی کا ڈر ہے نہ عقبے کا غم کوئی اتنا تو بتائے یہ اکڑتے کیوں ہیں ؟ بات کیا ہے کہ یہ پھرتے ہیں نہایت غرم بات یہ ہے کہ یہ شیطان کے فسوں خوردہ ہیں ان کے دل میں نہیں کچھ خوف خدائے عالم اپنی کم علمی کا بھی علم ہے کامل اُن کو ڈالتے ہیں انہیں دھوکے میں مگر دام دورم صاف ظاہر ہے جو آتی ہے یہ آواز صریر ان کے حالات کو لکھتے ہوئے روتا ہے قلم یاں تو اسلام کی قوموں کا ہے یہ حال ضعیف اور وال کفر کا ہرانا ہے اُونچی پرچم لاکھوں انسان ہوئے دین سے بے دیں کہیات آج اسلام کا گھر گھر میں پڑا ہے ماتم گھرنے کر دیا اسلام کو پامال غضب شرک نے گھیر لی توحید کی جا وائے ہستم