کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 302

کلام محمود — Page 222

106 نوٹ : اُردو میں عام طور پر منائے نہیں مٹتی بولا جاتا ہے اور وہاں یہ مراد ہوتا ہے کہ انسان مٹانا چاہتا ہے مگر نشان نہیں بیٹا۔اس کے برخلاف ایک نقش ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خود تو اسے مٹانا نہیں چاہتا، لیکن مرور زمانہ سے وہ کمزور پڑتا جاتا ہے، پونکہ میں نے اسی مضمون کو لیا ہے ، اس لیے بجائے مٹائے نہیں مٹی کے بٹتے نہیں مٹی استعمال کیا ہے۔جاہل اور ہوں کے نزدیک یہ بات ناجائز تعترف معلوم ہوگا مگر واقعوں کے نزدیک مفید اضافہ۔مرزا محمود احمد - (۲۸ جولاتی شه) یہ کیسی ہے تقدیر ہو ہٹتے نہیں مٹتی پتھر کی ہے تحریر جو ہٹتے نہیں ملتی سب اور تصور تو میرے دل سے مٹے ہیں ہے اک تری تصویر جو مٹتے نہیں مٹتی اب تک ہے میرے قلب کے ہر گوشہ میں موجود ان لفظوں کی تاثیر جو مٹتے نہیں مٹتی رکس زور سے کعبہ میں کہی تم نے مری جاں اک گو نجتی تعبیر جو ہٹتے نہیں ہٹتی انسان کی تدبیر پر غالب ہے ہمیشہ اللہ کی تدبیر جو ہٹتے نہیں ملتی ڈلہوزی و شملہ کی تو ہے یاد ہوئی مجھ ہے خواہش کشیر جو ہٹتے نہیں ملتی اسلام کو ہے نور بلا نورِ خدا سے ہے ایسی یہ تنویر جو ہٹتے نہیں ملتی کن کر کے نیا باب بلاغت کا ہے کھولا ہے چھوٹی سی تقریر جو مٹتے نہیں ملتی اخبار الفضل جلد ۵ - ۳۱ر جولائی سنہ لاہور پاکستان