کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 302

کلام محمود — Page 221

۲۲۱ 104 زمیں کا بوجھ وہ سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں اک آگ سینہ میں اپنے دبائے پھرتے ہیں وہ جس نے ہم کو کیا برسر جہاں رُسوا اُسی کی یاد کو دل میں چھپائے پھرتے ہیں دہ پھول ہونٹوں سے ان کے بھڑے تھے جو اک بار انی کو سینہ سے اپنے لگائے پھرتے ہیں کشو ہماری جان تو ہاتھوں میں اُس کے ہے جدھر بھی جب بھی وہ اس کو پھرائے پھرتے ہیں دہ دیکھ لے تو ہر اک ذرہ پھول بن جائے دہ موڑے منہ تو سب اپنے پرائے پھرتے ہیں خدا تو عرش سے اُترا ہے مُنہ دکھانے کو پر آدمی ہیں کہ بس منہ بنائے پھرتے ہیں اختبار الفضل جلد ۵ - ۱۱۹ جولائی سالہ لاہور۔پاکستان