کلام محمود — Page 223
۲۲۳ ۱۵۸ آنکھ گر مشتاق ہے جلوہ بھی تو بیتاب ہے دل دھڑکتا ہے میرا آنکھ اُن کی بھی پُر آب ہے ئر میں ہیں انکار یا اک بادلوں کا ہے ہجوم دل مرا سینہ میں ہے یا قطرہ سیماب ہے ظلمتوں نے گھیر رکھا ہے مجھے پر غم نہیں دُور اُفق میں جگمگاتا چہرہ مہتاب ہے • حق کی جانب سے ملا ہو جس کو تقویٰ کا لباس جسم پر اس کے اگر گاڑھا بھی ہو کمخواب ہے جسم ایمان سعی و کوشش سے ہی پاتا ہے نمو آرزوئے بے عمل کچھ بھی نہیں اک خواب ہے عشق صادق میں تیرا رونا ہے اک آب حیات بے غرض رونا تیرا اک بے پینہ سیلاب ہے اخبار الفضل جلد ۴۰۵ راگست شاه لاسور پاکستان