کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 302

کلام محمود — Page 204

م۔۱۴ دہ آئے سامنے منہ پر کوئی نصاب نہ تھا یہ انقلاب کوئی کم تو انقلاب نہ تھا میرے ہی پاؤں اُٹھائے نہ اُٹھ سکے افسوس انھیں تو سامنے آنے میں کچھ حجاب نہ تھا تھا یادگار تیری کیوں بیٹا دیا اس کو میرا یہ درد محبت کوئی مذاب نہ تھا بو دل پہ ہجر میں گذری بتاؤں کیا پیارے عذاب تھا وہ مرے دل کا اضطراب نہ تھا ہوئے نہ انجمن آرا۔اگر تو کیا کرتے کہ ان کے حسن کا کوئی بھی تو جواب نہ تھا بلا رہے تھے اشاروں سے بار بار مجھے مُراد یں ہی تھا مجھ سے مگر خطاب نہ تھا و فورشن سے آنکھیں جہاں کی خیرہ تھیں نظر نہ آتے تھے منہ پر کوئی نقاب نہ تھا عطائیں ان کی بھی بے انتہا تھیں مجھ پہ مگر مطالبوں کا مرے بھی کوئی حساب نہ تھا چھڑک دیا جو فضاؤں پہ عفو کا پانی ڈہ کو نسا تھا بدن جو کہ آب آب نہ تھا بس ایک ٹھیں سچی پھٹ کے ہو گیا اسے شیخ یہ کیا ہوا ترا دل تھا کوئی حباب نہ تھا ضیا پر مہر ہے ادنی سی اک جھلک اس کی نہ میں کو دیکھ سکا نہیں وہ آفتاب نہ تھا جو پورا کرتے اُسے آپ کیا خرابی بھی مرا خیال کوئی بوالہوس کا خواب نہ تھا اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۱۳در نومبر سه گانه