کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 302

کلام محمود — Page 203

٢٠٣ ده گل رھنا بھی دل میں جو مہماں ہو گیا گوشہ گوشہ خانہ دل کا گلستاں ہو گیا محسن بد میں کی محبت حق کی خاطر چھوڑ دی کا فرقت بنا لیکن مسلماں ہو گیا دل کو ہے وہ قوت و طاقت عطا کی ضبط نے نالہ جو دل سے اٹھا میرے وہ طوفاں ہو گیا کم نہیں کچھ کیمیا ہے سوز اُلفت کا اثر اشک خوں جو بھی نہا لعل بدخشاں ہو گیا آپ ہی وہ آگئے بیتاب ہو کر میرے پاس در وجب دل کا بڑھا تو خود ہی درماں ہو گیا سامنے آنے سے میرے جس کو برتا تھا گریز دل میں میرے آچھپا غیروں سے پنہاں ہو گیا میں دکھانا چاہتا تھا ان کو حالِ دل ، مگر وہ ہوئے ظاہر تو دل کا درد پنہاں ہو گیا پہلے تو دل نے دکھائی خود سری بے انتہا رفتہ رفتہ پھر یہ سرکل بھی مسلماں ہو گیا عشق کی سوزش نے آخر کر دیا دونوں کو ایک وہ بھی حیران رہ گیا اور میں بھی حیراں ہو گیا اس دل ناز کے صدقے جو میری لغزش کے وقت دیکھ کر میری پریشانی پریشاں ہو گیا اک مکمل گلستان ہے وہ مرا نچہ دہن جب بہوا وہ خندہ زن میں گل بداماں ہو گیا آگیا غیرت میں فوراً ہی میرا مینی نفس مرتے ہی پھر زندگی کا میری ساماں ہو گیا میں بڑھا اک گز تو وہ سو گز بڑھے میری طرف کام مشکل تھا مگر اس طرح آساں ہو گیا حیف اس پر جس کو روی جان کر پھینکا گیا در منہ ہر ہر گل چمن کا نذرِ جاناں ہو گیا اخبار افضل مجله ۲ - لاہور پاکستان ۱ را گست شانه -