کلام محمود — Page 205
۱۴۱ دل دے کے ہم نے ان کی سات کو پا نیا بے کار چیز دے کے ڈر بے بہا لیا ئیں مانگنے گیا تھا کوئی اک نیا گا لیکن وہاں اُنھوں نے میرا دل اُڑا لیا که کہتے ہیں لوگ کھاتے ہیں یہ صبح و شام غم ہم ان سے کیا کہیں کہ نہیں غم نے کھا لیا گر کر گڑھے میں عرش کے پانے کو جانتھنوں کھوئے گئے جہاں سے گر اُن کو پا لیا نکلا تھا ئیں کہ بوجھ اُٹھاؤں گا اُن کا نہیں لیکن اُنھوں نے گود میں مجھ کو اُٹھا لیا بھاگا تھا اُن کو چھوڑ کے یونس کی طرح ہیں لیکن انھوں نے بھاگ کے پیچھے سے آلیا ہنتے ہی ہنتے رُوٹھ گئے تھے وہ ایک دن ہم نے بھی رُوٹھ روٹھ کے اُن کو منا لیا جا جا کے اُن کے در پہ تھکے پاؤں جب سے وہ چال کی کہ ان کو ہی دل میں بسا لیا یہ دیکھ کر کہ دل کو لیے جا رہے ہیں کہ میں نے بھی اُن کے حُسن کا نقشہ اُڑا لیا ناراضگی سے آپ کی آتی ہے لب پہ جان اب تھوک دیجے غصہ بہت کچھ ستا لیا کیا دام عشق سے کبھی نکلا ہے قید بھی کیا بات تھی کہ آپ نے عہد وفا لیا نقصاں اگر ہوا تو فقط آپ کا ہوا دل کوستا کے اسے میرے دلدار کیا لیا میں صاف دل ہوں مجھ سے خطا جب کبھی کئی آپ خیال سے میں اسی دم بنا لیا ہونے دی ان کی بات نہ ظاہر کسی پہ بھی جو زخم بھی لگا اسے دل میں چھپا لیا عشق دونا کا کام نہیں نالہ دفناں بھر آیا دل تو چھکے سے آنسو بہا لیا اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان ۱۲۰۰ دسمبر شانه