کلام محمود — Page 198
۱۹۸ (۱۳۴ مسحور کر دیا مجھے دیوانہ کر دیا تیری نگاہ نطف نے کیا کیا نہ کر دیا جادو بھرا ہوا ہے وہ آنکھوں میں آپ کی اچھے بھلے کو دیکھ کے دیوانہ کر دیا سوز دروں نے جوش جو مارا تو دیکھنا خود شمع بن گئے مجھے پروانہ کر دیا آنکھوں میں گھس کے وہ میرے دل میں سما گئے مسجد کو اک نگاہ میں ثبت خانہ کر دیا غم کی طرف نگاہ کی ساتی نے جب کبھی میں نے بھی اُس کے سامنے پیمانہ کردیا ہیں نا خدائے قوم بنے صاحبان فصل ہے اس خیال نے مجھے دیوانہ کر دیا ہر جلوہ جدید نے تختہ الٹ دیا خود مجھ کو اپنے آپ سے بیگانہ کر دیا میری شکایتوں کو ہنسی میں اُڑا دیا لایا تھا جو میں سنگ اُسے وانہ کردیا کہتے ہیں میرے ساتھ رقیبوں کو بھی تو چاہ کو اور مجھ غریب پر جرمانہ کر دیا ناسخ وہ اعتراض تیرے کیا ہوئے بتا یکتا کے پیار نے مجھے یکتا نہ کر دیا؟ اختيار الفضل بند ۲ - لاہور پاکستان - ۱۳مر جولائی شده