کلام محمود — Page 197
144 ١٣٣ ذکر خُدا پر زور دے فلکمت دل منائے جا گوہر شب چراغ بن دُنیا میں جگمگائے جا دوستوں دشمنوں میں فرق داب سلوک یہ نہیں آپ بھی جام کئے اڈا غیر کو بھی پلائے جا خالی اُمید ہے فضول منفی عمل بھی چاہیے ہاتھ بھی تو ہلائے جا آش کو بھی بڑھائے جا جو لگے تیرے ہاتھ سے زخم نہیں علاج ہے میرا نہ کچھ خیال کر زخم یونہی لگائے جا مانے نہ مانے اس سے کیا بات تو ہو گی دو گھڑی قصہ دل طویل کر بات کو تو بڑھائے جا کشور دل کو چھوڑ کر جائیں گے وہ بھلا کہاں آئیں گے وہ یہاں ضرور تو انہیں بس بلائے جا منزل عشق ہے کشن راہ میں راہزن ہی میں پیچھے نہ مڑ کے دیکھ تو آگے قدم بڑھائے جا عشق کی سوزشیں بڑھا جنگ کے شعلوں کو دبا پانی بھی سب طرف چھڑ ک آگ بھی تو لگائے جا اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۹ جولائی شد