کلام محمود — Page 199
144 ۱۳۵ ہو چکا ہے ختم اب پکر تری تقدیر کا سر نے والے اٹھے کہ وقت آیا ہے اب تدبیر کا شکوہ جور ملک کب تک رہے گا ہر زباں دیکھ تو اب دوسرا رخ بھی ذرا تصویر کا کاندی جامہ کو پھینک اور آہنی زیر میں مین وقت اب جاتا رہا ہے شوخی تحریر کا نیزه دشمن ترے سینہ میں پیوستہ نہ ہو اس کے دل کے پار ہو سونار تیرے تیر کا اپنی خوش اخلاقیوں سے موہ سے دشمن کا دل دلبری کر، پھوڑ سودا نالہ دل گیر کا مدتوں کھیلا کیا ہے لعل و گوہر سے کرو اب دکھا دے تو ذرا جو ہر اُسے شمشیر کا پی کے دھندوں کو پھوڑا اور قوم کے فکروں میں سے ہاتھ میں شمیشرے عاشق نہ بن کف گیر کا ملک کے چھوٹے بڑے کو وعظ کر پھر وعظ کر وعظ کرتا جا، نہ کچھ بھی منکر کر تاثیر کا گل کے کاموں کو بھی ممکن ہو اگر تو آج کر اسے میری جاں وقت یہ ہرگز نہیں تاخیر کا ہو چکی مشق ستم اپنوں کے سینوں پر بہت اب ہو دشن کی طرف رُخ خنجر د شمشیر کا اے میرے فرہاد رکھ دے کاٹ کر کوہ جبیل تیرا فرض اولیں لانا ہے جوئے شیر کا ہو رہا ہے کیا جہاں میں کھول کر آنکھیں تو دیکھ وقت آپہنچا ہے تیرے خواب کی تعبیر کا اختبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۱۴ار جولائی شد