کلام محمود — Page 196
144 ۱۳۲ ہوا زمانہ کی جب بھی کبھی بگڑتی ہے مری نگاہ تو بس جا کے تجھ پہ پڑتی ہے بدل کے بھیس معالج کا خود وہ آتے ہیں زمانہ کی جو طبیعت کبھی بگڑتی ہے زبان میری تو رہتی ہے اُنکے آگے گنگ نگاہ میری نگاہوں سے اُن کی لڑتی ہے الجھ اُلجھے کے میں گرتا ہوں دامن تر سے میری اُمیدوں کی بستی یونسی اُجڑتی ہے کبھی جو ناشین تدبیر میں ہلاتا ہوں مجھے شکنجہ میں قیمت مری جکڑتی ہے رمنٹ منٹ پہ میرا امتحان لیتے ہیں قدم قدم پہ مصیبت یہ آن پڑتی ہے * اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - در جولائی منش