کلام محمود — Page 195
۱۹۵ ۱۳۱ اترسوں خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص ہے اور وہ میری ایک نظم خوشش آسمانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہے آنکھ کھلی تو شعر تو کوئی یاد نہ رہا گھر وزن اور قافیہ ردیف خوب اچھی طرح یاد رہے۔اسی وقت ایک مصرعہ بنایا کہ وزن تانیہ رویف یا د رہ جائیں صبح اس پر غزل کہی جو چھپنے کے لیے ارسال ہے۔( مرزا محمد واحمد) مردوں کی طرح باہر نکلو اور ناز واذا کو رہنے دو بس رکھ لوپنے سینوں پر اور آہ و بکا کو رہنے دو اب تیر نظر کو پھینک کے تم اک خبر آئن ہاتھ میں تو یہ فولادی پہ جوں کے ہی دن اب مست بنا کو رہنے دو کیا جنگوں مومن کیسے ڈور وہ موت کیلا کرتا ہے تم اس کے سر کرنے کیلئے میدان وفا کو رہنے دو تمام طب میں ساتھ رہے جب نام یا تم بھاگ اٹھے ہے دیکھی ہوئی اپنی یہ نام اپنی وفا کرنے دو مسلم جو خدا کا بندہ تھا افسوس کہ اب یوں کہا ہے اسباب کرو کوئی پیدا جبریل و خدا کو رہنے دو خود کام کو چوپٹ کرکے تم اللہ کے سر من دیتے ہو تم اپنے کاموں کو دیکھو اوراس کی قضا کو رہنے دو و اس کے پیچھے چلتے ہیں ہرم کی رات ہی ہیں اور اس کی عادت میں اور ان چار کو رہنے دو کہ اسکی تیکمی چون میں جنت کا نظارہ دیکھتا ہے اس جور و جفا کے واسطے تم پابند وفا کو رہنے دو اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - ۲ جون شاه