کلام محمود — Page 173
11۔بحضور رب و دور با دلِ ریش و حال زار یا اس کی درگہ میں بار بار گیا دل اندر نگیں کو لے کر ساتھ چاک دامان و استکبار گیا آہیں بھرتا ہوا ہوا حاضر سینہ کوبان و سوگوار گیا ساری عرضوں کا پر ملا یہ جواب ہم نے مانا ترا ترار گیا پر تجھے کیا محل شکوہ ہے یار کے پاس اُس کا یار گیا IF سیدہ مریم بیگم مرحومہ کی روح کو خطاب اے میری جاں ہم بندے ہیں اک آقا کے آزاد نہیں اور بچے بندے مالک کے ہر حکم پہ قرباں جاتے ہیں کا ہے حکم تمہیں گھر جانے کا اور ہم کو ابھی کچھ شہرنے کا بحضور رب غفور تم ٹھنڈے ٹھنڈے گھر جاؤ ہم پیچھے پیچھے آتے ہیں ١١٢ ڈہ میرے دل کو چٹکیوں میں کل کل کر یوں فرماتے ہیں کیا عاشق بھی معشوق کا شکوہ اپنی زباں پر لاتے ہیں ئیں ان کے پاؤں چھوتا ہوں اور دامن چوم کے کہتا ہوں دل آپ کا ہے جاں آپ کی ہے پھر آپ یہ کیا فرماتے ہیں اخبار الفضل ۲۴ مئی ۱۹۲۳