کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 302

کلام محمود — Page 166

194 ۱۰۴ یہ نور کے شعلے اُٹھتے ہیں میرا ہی دل گرمانے کو جو بجلی افق میں چکی ہے چکی ہے مرے تڑپانے کو یا بزم طرب کے خواب نہ تو دکھلا اپنے دیوانے کو یا جام کو حرکت دے نیلی اور چکر دے پیمانے کو پھر عقل کا دامن چھٹتا ہے پھر وحشت جوش میں آتی ہے جب کہتے ہیں کہ دنیا سے چھیڑو نہ مرے دیوانے کو کچھ لوگ وہ ہیں جو ڈھونڈتے ہیں آرام کو ٹھنڈے سایوں میں پر ملتی ہے لیکن دل جلنے میں ترے پروانے کو یہ میری حیات کی اُلجھن تو ہر روز ہی بڑھتی جاتی ہے دہ نازک ہاتھ ہی چاہیئے ہیں اس گھٹتی کے مسلجھانے کو عرفان کے رازوں سے جاہل تسلیم کی راہوں سے غافل جو آپ بھٹکتے پھرتے ہیں آئے ہیں مرے سمجھانے کو 140 اخبار الفضل جلد ۲۰- ۹ جولائی سنه