کلام محمود — Page 167
۱۰۵ اک دن بو آہ دل سے ہمارے نکل گئی آه غیرت کی اور عشق کی آپس میں چل گئی ے ہی چلی تھی جلد سے میری خطا مجھے اُن کی نگاہ سر سے تقدیر مل گئی شاید کہ پھر اُمید کی پیدا ہوئی جھلک نتھنوں تک آ کے رُوح ہماری پھل گئی آئینہ خیال میں صورت دکھا گئے یوں گرتے گرتے میری طبیعت سنبھل گئی احوال عشق پوچھتے ہو مجھ سے کیا ندیم طبع بشر پھلنے پہ آئی پھسل گئی محمود راز محسن کو ہم جانتے ہیں خوب سورت رکسی کی نور کے سانچے میں ڈھل گئی اختبار الفضل جلد ۲۸-۲۹ اکتوبرت شدید