کلام محمود — Page 165
١٠٣ یوں اندھیری رات میں لے چاند تو چپکا نہ کر مشرک ہمیں بدن کی یاد میں برپا نہ کر کیا لب دریا میری بے تابیاں کافی نہیں تو جگر کو پاک کر کے اپنے یوں تڑپا نہ کر دُور رہنا اپنے عاشق سے نہیں دیتا ہے زیب آسماں پر بیٹھ کر ٹوٹیوں مجھے دیکھا نہ کر مکس تیرا چاند میں گر دیکھ لوں کیا عیب ہے اس طرح تو چاند سے اے میری جاں پردہ نہ کر بیٹھ کر جب عشق کی کشتی میں آؤں تیرے پاس آگئے آئے چاند کی مانند تو بھاگا نہ کر اے شعاع نور یوں ظاہر نہ کر میرے عیوب غیر میں چاروں طرف ان میں مجھے رسوا نہ کر ہے محبت ایک پاکیزہ امانت اے عزیز عشق کی عزہ سے واجب عشق سے کھیلا مذکر ہے عمل میں کامیابی موت میں ہے زندگی جاپسٹ بالر سے ڈریا کی کچھ پروا نہ کر اخبار الفضل جلد ۲۸ - ۶ جولائی سنگه