کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 302

کلام محمود — Page 148

۱۴ 9۔وہ پھلک رہا ہے میرے غم کا آج پیمانہ کسی کی یاد میں میں ہو رہا ہوں دیوانہ زمانہ گذرا کہ دیکھیں نہیں وہ مست آنکھیں کہ جن کو دیکھ کے میں ہو گیا تھا مستانہ ده شمع رو کہ جسے دیکھ کر ہزاروں شمع بھڑک اُٹھی تھیں بسوز ہزار پروانہ دہ جس کے چہرہ سے ظاہر تھا نور ربانی ملک کو بھی جو بناتا تھا اپنا دیوانہ کہاں ہے وہ کہ ملوں آنکھیں اسکے تلوں سے کہاں ہے وہ کہ گروں اس پر مثل پروانہ وہ محبتیں کہ نئی زندگی دلاتی تھیں وہ آج میرے لینے کیوں بنی ہیں افسانہ ده یار جس کی محبت پہ ناز تھا مجھ کو کوئی بتاؤ کہ کیوں ہو رہا ہے بیگانہ جو کوئی روک تھی اس کو یہاں پر آنے کی بلا لیا نہ رہیں کیوں نہ اپنا دیوانہ نہ چھیڑ دشمن ناداں نہ چھیڑ کہتا ہوں چھلک رہا ہے مرے غم کا آج پیمانہ تری نیستیں بے کار تیرے کمر فضول یہ چھیڑ جائے کسی اور جاپہ افسانہ چھڑائے گا بھلا کیا دل سے میرے یا داس کی تو اور مجھ کو بناتا ہے اُس کا دیوانہ نہ تیرے ظلم سے ٹوٹے گا رشتہ الفت نہ حرص مجھ کو بنائے گی اُس سے بیگانہ ہے تیری سعی دلیل حماقت مطلق ہے تیری جد و جہد ایک فعل طفلانہ ترا خیال کدھر ہے یہ سوچ اے ناداں رہا ہے دُور کبھی شرع سے بھی پروانہ حدیث مدرسه و خانقاه مگو بخدا فتاد بر سر حافظ ہوائے میخانہ اخبار الفضل جلد ۲۰- یکم جنوری ساند