کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 302

کلام محمود — Page 147

۱۴۷ لڑائی اور جھگڑے دُور کر دیں دلوں کو پسیار سے معمور کر دیں جو بیکس ہوں یہ ان کے یار ہو جائیں سر ظالم پر اک تلوار ہو جائیں بنیں ابلیس نافرماں کے قاتل لوائے احمدیت کے ہوں حال میدان وفا میں جب بھی آئیں تو دل اعدام کے سینوں میں دُہل جائیں بنائے بشرک کو بڑے پلا دیں نشان کفر و بدعت کو ہٹا دیں خدا کا نور چمکے ہر نظر میں ملک آئیں نظر چشم بشر میں بڑھیں اور ساتھ دُنیا کو بڑھائیں پڑھیں اور ایک عالم کو پڑھائیں اپنی دُور ہوں ان کی بلائیں پڑیں دشمن پر ہی اس کی جفائیں اہی تیز ہوں ان کی نگاہیں نظر آئیں سبھی تقویٰ کی راہیں ہوں بحر معرفت کے یہ شناور سمائے علم کے ہوں مہر یہ قصیر احمدی کے پاسباں ہوں یہ ہر میداں کے یا رب پہلواں ہوں شریا سے یہ پھر ایمان لائیں یہ پھر واپس تیرا قرآن لائیں انور