کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 302

کلام محمود — Page 149

حضرت سید مسار بیگم کی وفات پر کر رحم اے رحیم مرے حال زار پر زخم جگر پہ دردِ دل بے قرار پر مجھ پر کہ ہوں عزیزوں کے حلقہ میں مثل غیر اس بے کس و نحیف و غریب الدیار پر جس کی حیات اک ورق سوز و ساز تھی جیتی تھی جو غذائے تمنائے یار پر مقصود جس کا علم و تعٹی کا حصول تھا رکھتی تھی جو بنگر نگر لطف یار پر تھی ماحصل حیات کا اک سئی ناتمام کائی گئی غریب حوادث کی دھار پر دل کی اُمیدیں دل ہی میں سب دفن ہو گئیں پائے اُمید ثبت رہا انتظار پر ہاں اسے مغیث سُن لے میری التجا کو آج کر رحم اس وجود محبت شعار به سر اُس نے گسار بادہ اُلفت کی رُوح پر اُس بوستان عشق و وفا کی مزار پر ہاں اُس شھید علم کی تربت پہ کر نزول خوشیوں کا باب کھول غموں کی شکار پر میری طرف سے اس کو جزا ئے نیک دے کر رحم اے رحیم دل سوگوار پر حاضر نہ تھا وفات کے وقت اے کے خُدا بھاری ہے یہ خیال دل ریش و زار پر ڈرتا ہوں کہ مجھے نہ کسے با زبان حال جاؤں کبھی دُعا کو جو اس کے مزار پر سر جب مرگئے تو آئے ہمارے مزار پر اختبار الفضل جلد پھتر پڑیں صنم ترے ایسے پیار پر ۲۱ - ۱۹ جولائی دا پہلے حضور کی حرم محترم جنون سر میں وفات پائی۔انا لله وانا اليه راجعون