کلام محمود — Page 141
۱۴۱ اک عمر گذر گئی ہے روتے روتے دامان عمل کا داغ دھوتے دھوتے یاران وطن یہ خواب جنت کسی کام دوزخ میں پہنچ چکے ہو سوتے سوتے آتا ہے تو اب گنہ میں نطف آتا ہے نوبت یہ پہنچ گئی ہے ہوتے ہوتے کیا کعبہ کو جاؤ گے تبھی تم جس وقت تھک جاؤ گے کشت ظلم ہوتے ہوتے چھانا کئے سب جہاں کو ان کی خاطر جب دیکھا تو دیکھا ان کو سوتے سوتے۔دیکھا نہ نگاہ یار پا لی ہم نے فُرقت میں جو اس و ہوش کھوتے کھوتے اخبار الفضل جلد ۱۹-۶ ر جولائی مسئلہ