کلام محمود — Page 127
فضل الہی کے غیبی سامان ہم انہیں دیکھ کے حیران کئے جاتے ہیں خود بخود چاک گریبان ہوئے جاتے ہیں دشمن آدم کے جو نادان ہوئے جاتے ہیں ہائے انسان سے شیطان ہوئے جاتے ہیں گیسوئے یار پریشان ہوئے جاتے ہیں اب تو واعظ بھی پشیمان ہوئے جاتے ہیں غیب سے فضل کے سامان ہوئے جاتے ہیں مرحلے سارے ہی آسان ہوئے جاتے ہیں حسن ہے داد طلب عشق تماشائی ہے لاکھ پردوں میں وہ عریان ہوئے جاتے ہیں تیری تعلیم میں کیا جادُو بھرا ہے مرزا جس سے حیوان بھی انسان ہوئے جاتے ہیں سینکڑوں عیب نظر آتے تھے جن کو اس میں وہ بھی اب عاشق قرآن ہوئے جاتے ہیں گورے کالے کی اٹھی جاتی ہے دنیا سے تمیز سب ترے تابع فرمان ہوئے جاتے ہیں سختہ اشک پروئی ہے وہ تو نے والہ گھر بھی اب تو مسلمان ہوئے جاتے ہیں مرد و زن عشق میں تریے ہمیں برابر سرشار ہر ادا پر تری قربان ہوئے جاتے ہیں ہے ترقی پہ میرا جوش جنوں ہر ساعت تنگ سب دشت بیابان ہوئے جاتے ہیں بیٹھ جاؤ ذرا پہلو میں میرے آگے کہ آج سب ارادے میرے ارمان ہوئے جاتے ہیں جوش گریہ سے پھٹا جاتا ہے دل پھر محمود اشک پھر قطرہ سے طوفان ہوئے جاتے ہیں - اختبار الفضل جلد ۱۳ - ۸ / جنوری ۱۹۲۶مه